Welcome to ::::::ALHARAMAINONLINE.ORG::::::
 
 

 
  خطب: حج : دروس ، بصائر و عبرتین ۔ فضائل و برکتین
أرسلت في Wednesday, March 10 بواسطة urd
 
 
  makkah

 

 

 

حج : دروس ، بصائر و عبرتیں ۔  فضائل و برکتیں 

فضیلة الشیخ  / صالح بن محمد آل طالب   : حفظہ اللہ

8/12/ 1424 ھ  30 / 1 / 2004 ء

حمد و ثناء کے بعد

اللہ کے بندو ! اللہ سے ڈرو کیونکہ ارشاد الہی ہے :

" اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو ، بیشک قیامت کا زلزلہ بہت ہی سخت چیز ہے ، جس دن تم اسے دیکھو گے کہ تمام دودھ پلانے والی عورتیں اپنے بچوں کو بھی بھول جائیں گی اور تمام حمل والی عورتوں کے حمل گر جائیں گے اور لوگ تمھیں دیوانے نظر آئیں گے مگر وہ دیوانے و متوالے نہیں ھونگے بلکہ ( عذاب دیکھ کر ) مدھوش و بیہوش ھو رہے ھونگے ، بیشک اللہ کاعذاب بڑا ہی سخت ہے "۔( الحج : 1 ۔ 2 )

مبارک و بشارت ھو :

 



اے حجاج بیت اللہ ! اللہ سے اجر و ثواب پانے کے لۓ اس کی اطاعت و عبادت کر کے اس کا قرب حاصل کرو اور اس کے عذاب و غضب کے اسباب کا ارتکاب کرنے سے بچو ۔ آپ کا بیت اللہ شریف تک آ پہنچنا آپ کو مبارک ھو اور مناسک حج کا آغاز کر دینا بھی آپ کے لۓ باعث برکت ھو ، آپ ایسے وقت پر حج اور اس کے ارکان و مناسک کی ادائيگی کا آغاز کر رہے ہیں جبکہ پوری دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کے دل بڑے شوق و جذب کے ساتھ اس گھر کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔

جس نے اللہ کی رضاء و خوشنودی کے حصول کے لۓ حج کیا اس کے لۓ خوشخبری و بشارت ہے ۔۔

اے حجاج کرام ! آپ سب کے لۓ خوشخبریاں کانوں میں رس گھول رہی ہیں ، اللہ نے آپ کو بہت بڑی نعمت سے مالا مال اور رحمتوں سے نہال کر دیا ہے ، اور اس کی رحمتوں کے کیا کہنے ؟ وہ کل جب آپ لوگ میدان عرفات میں ھونگے تو کہے گا :" جاؤ لوٹ جاؤ ! میں نے تم سب کو بخش دیا ہے ۔

مغفرت و بخشش :

حاجی کے لۓ بشارت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے :

" جس نے حج کیا اور عورتوں سے اختلاط نہ رکھا اور نہ ہی کوئی برائی و گناہ کیا ۔ وہ گناھوں سے یوں پاک ھو کر لوٹا جیسے کہ اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے جنم دیا تھا " ۔( صحیح بخاری و مسلم )

یہ کتنا عظیم انعام ہے کہ جس سے مومنوں کے دل خوشی میں جھوم اٹھتے اور جسے پانے کے لۓ راستے میں آنے والی تمام مشکلات اور تھکاوٹیں ہیچ ھو کر رہ جاتی ہیں ۔

جح کا اعلان خلیل :

اے حجاج کرام ! آپ لوگ اس دعوت پر صدق دل سے لبیک کہتے ھوۓ آۓ ہیں جس کی صداۓ بازگشت صدیوں سے مسلسل جاری  و غیر منقطع ہے ، جس میں اللہ تعالی نے حضرت ابراھیم علیہ السلام سے مخاطب ھو کر فرمایا  تھا :

" اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دیں ، وہ آپ کے پاس پاپیادہ اور دبلی پتلی اونٹنیوں پر سوار ھو کر دور دراز و دشوار گزار  راستوں ( علاقوں ) سے چلے آئیں گے " ۔ ( الحج : 27)

خلوص و وفا کی یادگاریں :

آپ دنیا میں اللہ کے اس پہلے گھر خانہ کعبہ آۓ ہیں جسے دو معزز و مکرم نبیوں نے مل کر تعمیر کیا تھا جو حضرت ابراھیم خلیل اور اسماعیل ذبیح علیھما السلام ہیں ،  حضرت ابراھیم علیہ السلام وہ شخصیت ہیں جنھوں نے ایوان شرک کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور توحید کا غلغلہ بلند کیا حتی کہ انھیں اسی پاداش میں آگ میں پھینک دیا گیا مگر اللہ تعالی نے اس سے بچا لیا اور ان کی مدد فرمائی ۔ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام وہ پسر تابعدار ہیں جنھوں نے اپنے رب کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ھوۓ اپنی گردن ذبح ھونے کے لۓ پیش کر دی مگر اللہ نے ( دنبے کا فدیہ دے کر ) ان کی جان بچا لی اور ان کی قدر و منزلت کو بہت بلند کر دیا ۔ ان دونوں باپ بیٹے نے اپنی زندگیاں اللہ کے سامنے پیش کر دیں یہاں تک کہ آگ میں ڈالے جانے اور ذبح کۓ جانے کے آخری لمحات آ گۓ ۔

رمز توحید و راہ نجات :

تو گویا یہ عظیم عمارت یہ کعبہ اللہ توحید کی رمز ہے اور یہ بیت اللہ شریف اللہ کی شریعت کے سامنے سرتسلیم خم کر لینے کی ایک علامت ہے اسی طرح یہ خانہ کعبہ اللہ کے احکام و اوامر کی اتباع و پیروی کرنے اور اس کے نواہی و ممانعتوں کے سامنے سر جھکانے کی ایک نشانی ہے ۔ اور یہی فتح و نصرت حاصل کرنے کا وہ راستہ ہے جس پر تمام انبیاء و رسل اور ان کے پیروکار چلتے گۓ ہیں ۔ عقیدہء توحید ، اطاعت الہی ، اتباع سنت اور شریعت کی اتباع و پیروی ، انہی  کا دوسرا نام ہے راہ نجات و نصرت ہے ۔ ارشاد الہی ہے :

" بتوں کی نجاست و پلیدی سے بچو اور جھوٹی بات سے اجتناب کرو ، صرف ایک اللہ کے ھو کر رھو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ " ۔ ( الحج : 30)

حج ایک تربیت گاہ :

مسلمانو ! اے مہمانان رب رحمان ! مناسک حج محض کوئی رسوم نہیں کہ جنھیں ادا کر دیا جاۓ اور محض چند مقامات کا نام نہیں کہ وہاں حاضری دے دی جاۓ بلکہ حج ایک مدرسہ ہے ، تربیت کا ادارہ ہے ، ایک تاریخ ہے ، کچھ یادگاریں ہیں اور خالص عبادت الہی ہے جس سے حاجی پر نور ایمان برستا ہے اور اسے اس کی عبادت کا پھل بھی ملتا ہے ۔

1 ۔ احساس و شعور و فقر و محتاجی :

جب حاجی صفا و مروہ کے مابین سعی کرتا ہے اور وادیء ابطح (  سبز میلوں کی درمیانی جگہ ) کو تیزی کے ساتھ چل کر ( بلکہ دوڑ کر پار کرتا ہے تو اس کے ذھن میں (حضرت ھاجرہ علیہا السلام کا ) فقر و فاقہ یاد کر کے اللہ کے سامنے تذلل و عاجزی اور انکساری و خاکساری کا جذبہ رونما ھو جاتا ہے اور اسے یہ شعور ملتا ہے کہ وہ بھی اپنے خالق و مالک اور اپنے رب کے در کا اتنا ہی محتاج و فقیر ہے جتنی کہ حضرت ہاجرہ تھیں جو کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ تھی ، اس مشکل وقت میں اور کرب عظیم کے عالم میں وہ صرف اللہ ہی کے در کی سوالی رہیں ۔ دل میں اسی کا

 ڈر لۓ صرف اسی سے مدد طلب کرتی رہیں اور بچے کی خاطر دیوانہ وار پانی کے لۓ بھاگ دوڑ کرتی رہیں ۔

2 ۔ اطاعت گزار : اللہ کی حفاظت میں :

اسی طرح حاجی کو یہ بات بھی یاد آ جاتی ہے کہ جو شخص حضرت ابراھیم علیہ السلام کی طرح اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کرتا ہے اسے بھی اللہ تعالی ان کی طرح ضایع نہیں کرتا ، نہ اس کے بال بچوں کو ضایع ھونے دیتا ہے اور نہ ہی اس کی دعاؤں کو رد کرتا ہے  ۔

کتاب و سنت کے مطابق حج :

اے حاجی ! اللہ نے اپنے فضل و کرم سے جب آپ کو بیت اللہ کے حج کا موقع عنایت فرما دیا ہے اور اپنے گھر کی راہیں آسان کر دی ہیں تو بھرپور کوشش کریں کہ حج کے مناسک کو پوری طرح ادا کریں اور تمام اعمال و افعال حج کو اللہ تعالی کے احکام کی پیروی کرتے ھوۓ ادا کریں ، جس نے فرمایا ہے :

" اور اللہ کے لۓ حج و عمرہ پورا کرو ، ( البقرہ : 196)

اور یہ اتمام حج و عمرہ یا انھیں پوری طرح ادا کرنا اللہ کے لۓ خلوص نیت ، اتباع سنت اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی کے سوا ممکن ہی نہیں ۔

لھذا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کے عین مطابق حج و عمرہ ادا کریں ، جنھوں نے ارشاد فرمایا ہے:

" مجھ سے اپنے حج کے احکام و مسائل سیکھ لو " ۔

اسی طرح حج کو اس کی تمام شرائط اور پورے واجبات کے ساتھ ادا کریں ۔ اور کسی بھی کام کو شروع کرنے سے پہلے اس کے بارے میں اچھی طرح علم حاصل کر لیں اور جس کا علم نہ ھو اس کا آغاز کرنے سے پہلے اس کے بارے میں شرعی احکام اہل علم سے پوچھ لیں ۔

احکام حج سیکھۓ  :

کتنے  حجاج کرام  وہ بھی جو لاعلمی و جہالت میں ہی اللہ کی عبادت کۓ جاتے ہیں نہ سیکھتے ہیں اور نہ

 ہی پوچھتے ہیں جبکہ یہ مناسک حج و عبادات کے سلسلہ میں ایک بہت لاپرواہی ہے کتنے ہی لوگ ایسے ہیں کہ وہ ایک  کام کر کے سوال پوچھتے ہیں ۔ حالانکہ اگر انھوں نے اس کام کو کرنے سے پہلے پوچھ لیا ھوتا تو جس حرج و نقصان میں وہ مبتلا ھوۓ ہیں وہ ان سے زائل ھو جانا تھا ۔ رخصتوں کو تلاش کرنا ، اور مناسک حج و عمرہ کی ادائيگی میں لاپرواہی برتنا عیب و نقص ہے ، لھذا اے حجاج کرام ! اللہ سے ڈریں حج اور عمرہ کو مکمل طور پر ادا کریں ۔

نواقض و نواقص سے اجتناب :

حج و عمرہ کو مکمل طور پر ادا کرنے میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ ہر اس چیز سے  دور رہیں جو اس میں نقص پیدا کرنے والی ہے ۔ چنانچہ لڑائی جھگڑا ، عورتوں سے اختلاط و شہوانی حرکات ، برائی و گناہ اور اللہ کے بندوں سے غرور و تکبر کے ساتھ پیش آنا ،یہ سب امور سنت تو سنت خود قرآن کریم میں بھی منع قرار دیۓ گۓ ہیں ۔ اور ان امور سے دور رہنا حج کی قبولیت اور حصول مغفرت و بخشش کی شرط ہے ۔ چنانچہ ارشاد الہی ہے :

" حج کے مہینے معلوم و معروف ( معین ) ہیں اور جس نے ان میں حج کی نیت کر لی ( اسے اپنے اوپر فرض کر لیا ) اسے چاہیۓ کہ عورتوں سے اختلاط نہ رکھے ، برائی و گناہ نہ کرے اور نہ لڑائی جھگڑا کرے ،  اور جو نیک کام تم کرو گے وہ اللہ کو معلوم ھو جاۓ گا اور زاد راہ ( خرچہ ) ساتھ لے کر چلو ، البتہ بہترین زاد راہ تو تقوی و پرہیز گاری ہی ہے اور اے اہل عقل و خرد ! مجھ سے ڈرتے رھو"۔ ( البقرہ : 197)

مقاصد حج کے منافی افعال سے اجتناب :

اسی طرح یہ بھی ہرگز جائز نہیں کہ حج کو ایسے کاموں کا ذریعہ بنا لیا جاۓ جو کہ مقاصد حج کے منافی ہیں ۔ حج کے دوران کوئی دعوت روا نہیں سواۓ دعوت الی اللہ ( تبلیغ شریعت ) کے اور اس دوران کوئی شعار و نعرہ اختیار کرنا جائز نہیں سواۓ شعار توحید و سنت کے ۔

کسی بھی شخص کے لۓ جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والا ہے اس کے لۓ جائز نہیں کہ وہ کسی

مسلمان کو کوئی اذیت و تکلیف پہنچاۓ یا اسے خوف زدہ و ہراساں کرے یا حج کو ان فاسد مقاصد کے لۓ استعمال کرے جو کہ امام الانبیاء و الرسل کی سنت کے مخالف ہیں ۔

ارشادباری تعالی ہے :

" اور جو اسی ( حرم ) میں شرارت و الحاد ( کفر و کجروی ) کرنا چاہے اسے ھم دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے " ۔  ( الحج : 25)

3 ۔ تھذیب نفس و تزکیہ :

اللہ والو ! حج میں نفوس کی تربیت کا پہلو بھی پایا جاتا ہے کہ انھیں خیر و بھلائی کے کاموں اور مکارم اخلاق کی تربیت دی جاۓ جیسے صبر و تحمل ، عفو و درگزر ، معافی تلافی ، اللہ کی راہ میں غریبوں پر خرچ کرنا ، دوسروں سے حسن سلوک کرنا ، ناواقف کو تعلیم دینا ، خیر و بھلائی کی طرف دعوت دینا اور مسلمانوں کو نفع پہنچانا وغیرہ اعمال خیر و بر ہیں ۔ اللہ کا قرب حاصل کرنے اور اس کی اطاعت بجا لانے کے لۓ مقرر فرمایا گیا ہے ۔

اس حج میں تھذیب نفس ، تزکیۂ باطن اور نفس کی فضائل و اعمال صالحہ پر تربیت ، اسے نقائص و عیوب سے پاک کرنا ، اسے شہوت پرستی جیسی غلامی سے آزادی دلانا اور اسے اعلی مقامات اور بلند درجات کرامت تک اٹھا لیجانا بھی پایا جاتا ہے ۔

اس حج میں آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ آپ عام زندگی میں جس عیش و عشرت کو اپنے لۓ انتہائی ضروری سمجھ بیٹھے ہیں وہ کوئی ضروری مجبوری ہرگز نہیں ہے ۔ اور اس سے بآسانی چھٹکارا پایا جا سکتا ہے ۔

4 ۔حسب و نسب نہیں عمل وعبادت :

اس حج کے دوران ہی اس بات کا احساس بھی پوری طرح ھو جاتا ہے کہ دوسرے لوگوں کے سامنے فخر و مباھات اور اپنے آپ کو دوسروں سے بالا سمجھنا یہ تمام جھوٹے مظاھر ہیں کیونکہ آج اس حج کے دوران آپ دیکھیں گے کہ سارے کے سارے لوگ ایک ہی لباس میں ملبوس اور برابر ہیں اور قیامت کے دن بھی سب اسی طرح برابر ھونگے ۔ یہ امور اور ان پر غور و فکر کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ زندگی کے بارے میں آپ اپنا نظریہ بدلیں اور دنیا کے ساتھ آپ کا معاملہ و تعلق صرف اتنا ہی رہے جتنے کی وہ مستحق ہے اس میں نہ جعل سازی رہے اور  نہ ہی مبالغہ آمیزی ۔

5 ۔ درس اتحاد و اتفاق :

ایسے ہی جس طرح آج حج کے موقع پر تمام مسلمان ایک مقصد اور ایک ہی جگہ پر جمع ھو گۓ ہیں ۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ان تمام مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق پر وقت اور ہر جگہ پر ممکن ہے ، ان کی صفوں کی شیرازہ بندی میں کبھی بھی اور کہیں بھی کوئی دقت نہیں ہے اور امت کی وحدت و شیرازہ بندی کے عنقریب وجود میں آ جانے کی ہی اللہ تعالی سے امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں ۔

6 ۔ درس توحید :

مسلمانو ! اے اللہ کے مہمانو ! اللہ تعالی نے حج میں ایک بڑی واضح خوبی بھی رکھی ھوئی ہے اور وہی حج کا شعار و نعرہ ہے اور وہ ہے : " اعلان توحید باری تعالی " ۔ اور یہ  شعار حج و اعلان توحید یہ تلبیہ ہے ۔

(( لبیک اللھم لبیک ، لبیک لا شریک لک لبیک ، ان الحمد و النعمۃ لک و الملک ، لا شریک لک ))

" میں حاضر ھوں ، اے اللہ ! میں حاضر ھوں ، میں حاضر ھوں ، تیرا کوئی شریک نہیں ۔ میں حاضر ھوں ، بیشک ہر قسم کی تعریف صرف تیرے لۓ ہے اور تمام نعمتیں بھی تیری ہی طرف سے ہیں ، تیرا کوئی شریک نہیں ہے " ۔

7 ۔ بکثرت ذکر الہی :

سنن ابوداود ، ترمذی اور مستدرک حاکم میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :

" بیت اللہ شریف کا طواف ، صفا و مروہ کے مابین سعی اور جمرات کی رمی اللہ کا ذکر قائم کرنے کے لۓ مقرر کۓ گۓ ہیں "  ۔ ( ابوداود ، ترمذی ، و صححہ الحاکم و وافعہ الذھبی ) ۔

اسی حدیث پر ہی بس نہیں بلکہ آیات حج پر غور و فکر کرنے والا شخص اس بات کو بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ وہ سب ذکر الہی کے حکم پر مشتمل ہیں جیسا کہ ارشاد الہی ہے :

" گنتی کے چند دنوں ( ایام منی ) میں اللہ کا ذکر کرو " ( البقرہ : 203)

دوسری جگہ پر فرمایا ہے :

" جب تم عرفات سے لوٹو تو مشعر الحرام ( مزدلفہ کی پہاڑی ) کے پاس اللہ کا ذکر کرو "

( البقرہ : 198)

اور ایک تیسرے مقام پر فرمایا ہے :

" اور جب تم اپنے مناسک و اعمال حج پورے کر لو تو اللہ کا ذکر کرو " ۔ ( البقرہ : 200)

لھذا تکبیرات ( اللہ اکبر ، اللہ اکبر ) اور ذکر الہی سے فضاؤں میں غلغلہ مچا دو ، اللہ آپ کے درجات بلند کرے گا اور تمھارے گناھوں کو دھو دے گا ۔

حج بکثرت تلبیہ پڑھنے ، تکبیرات کہنے ، ذکر الہی کرنے ، دعائیں مانگنے ، اور اللہ کے سامنے گڑگڑانے کا نام ہے ، نفع کمانے والا صرف وہی ہے جو اپنے رب کے سامنے گڑگڑاتا رہا ، اس سے مناجات و سرگوشیاں کرتا رہا اپنے مولاۓ کریم کے سامنے عاجزی و خاکساری اختیار کۓ رہا اور لایعنی و بے فائدہ کاموں میں اپنا وقت ضايع نہ کیا ۔

8 ۔ بکثرت دعائيں :

بعض مقامات و مواقع ایسے ہیں ، جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم بکثرت دعائيں کیا کرتے تھے ، مسلمان کو چاہیۓ کہ وہ بھی انھیں تلاش کرے اور ان میں بکثرت دعائیں کرے ، ان میں سے یوم عرفہ اور خاص طور پر اس کا بھی آخری پہر ، مزدلفہ میں نماز فجر کے بعد جب تک کہ صبح سپیدہءنور خوب پھیل نہ جاۓ ، ایام تشریق میں پہلے جمرے پر رمی کرنے کے بعد اور دوسرے جمرے پر کنکریاں مارنے کے بعد ، اسی طرح صفا و مروہ پر چڑھ کر دعائيں کرنا وغیرہ ۔

( اللہ اکبر ، اللہ اکبر ، لا الہ الا اللہ واللہ اکبر ، اللہ اکبر و للہ الحمد ) ۔

9 ۔ اہل علم کے لۓ غنیمت موقع :

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم لوگوں کے سامنے ظاھر ھوتے اور بار بار فرماتے رہے :

" مجھ سے  اپنے مناسک و طریقہ حج سیکھ لو " ۔

آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ عمل مبارک تمام طلبہ و اہل علم کے بہترین نمونہ ہے ، انھیں بھی چاہیۓ کہ لوگون کو ان کا دین سکھلائیں ، انھیں حق کی طرف راہنمائی مہیا کریں  اور ان کے لۓ نرمی و آسانی کریں ۔

یہ حج کا موقع اہل علم کے لۓ ایک غنیمت ہے کہ وہ امت مسلمہ کے لاکھوں لوگوں کو ان معاملات میں راہنمائی کریں جو ان کے لۓ نفع آور ہیں اور جسے توفیق محبوب ھو اسے چاہیۓ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے طریقہ و سنت کو اپنے اوپر لازم کرے  ۔

صحیح بخاری میں حدیث نبوی ہے :

" دین بہت آسان و سہل ہے اور جو کوئی دین سے مقابلہ کرے گا اور زور ڈالے گا تو دین اس پر غالب آ جاۓ گا " ۔

لھذا میانہ روی اختیار کرو افراط و تفریط میں مبتلا مت ھو جاؤ اور اللہ کا قرب تلاش کرو اور خوش ھو جاؤ اور صبح و شام کی نمازوں سے مدد لو اور کچھ رات کی  نماز ( تہجد ) سے " ۔

 10 ۔ امت کی شیرازہ بندی :

اسلام کے عظیم مقاصد میں سے ہی مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق اور ان کے دلوں کو یکجا اکٹھے کرنا بھی ہے اور ان کی شیرازہ بندی بھی اغراض و مقاصد اسلام کا حصہ ہے ۔

11 ۔ نشر و اشاعت حدیث :

منی کی مسجد خیف میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا تھا :

" اللہ اس شخص کو ھمیشہ ترو تازہ اور خوش رکھے جس نے میری حدیث سنی اور اسے آگے پہنچایا

 کیونکہ کئی حاملین فقہ خود فقیہہ نہیں ھوتے اور کئی حاملین فقہ اپنے سے بھی زیادہ عقل و فقہ والے

تک بات کو پہنچا دیتے ہیں ۔

تین چیزیں ایسی ہیں کہ جن پر مومن کا دل خیانت نہیں کرتا ، اللہ کے لۓ اخلاص فی العمل ، مسلمانوں  کے اولیاء امور و حکام کی نصیحت و خیر خواہی ، اور مسلمانوں کی جماعت میں ھمیشہ شمولیت ۔ ان کی دعائیں انھیں ان کے پیچھے سے محفوظ کۓ رکھتی ہیں " ۔ ( ابن ماجہ ، بسند صحیح )

حج مقبول و مبرور :

مسائل و احکام او دروس حج میں سے یہ چند جھلکیاں اور نور کی کرنیں تھیں اور ہر مسلمان کو چاہیۓ کہ وہ ان کی روشنی سے استفادہ کرے تاکہ اس کا حج مبرور و مقبول ھو سکے اور وہ اس عظیم فوز و فلاح اور کامیابی کو پا سکے جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے :

" جس نے اس بیت اللہ شریف کا حج کیا اور عورتوں سے اختلاط نہ کیا نہ ہی کوئی برائی و گناہ کیا ، وہ گناھوں سے یوں پاک ھو کر لوٹا جیسے کہ اس دن تھا جس دن اسے اس کی ماں نے جنم دیا تھا " ۔

( صحیح بخاری و مسلم )

اور صحیح مسلم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے :

" ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک کے گناھوں کا کفارہ ہے اورحج مقبول و مبرور کی جزاء و بدلہ تو صرف جنت ہی ہے " ۔ ( صحیح مسلم )

اللہ تعالی آپ کے حج کو مبرور و مقبول بناۓ ، آپ کی سعی کی قدر دانی کرے اور آپ کے گناہ معاف کرے ، اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے :

" اور ( قیام منی کے ) دنوں میں جو گنتی کے دن ہیں ، اللہ کا ذکر کرو ، اگر کوئی جلدی کرے اور دو ہی دن میں چل دے تو اس پر بھی کچھ گناہ نہیں اور جو بعد تک ٹھہرا رہے اس پر بھی کچھ گناہ نہیں یہ باتیں اس شخص کے لۓ ہیں جو اللہ سے ڈرے اور تم لوگ اللہ سے ڈرتے رھو اور جان رکھو کہ تم سب  اس کی پاس جمع کۓ جاؤ گے " ۔ ( البقرہ : 203)

 

مختصر طریقہ و مناسک حج :

8 ذوالحج ، یوم ترویہ کی صبح  حج کرنے والے احرام باندھنے اور پھر منی کی طرف چلے جاتے ہیں  ، اور وہاں نماز ظہر قصر کر کے ( دوگانہ ) اس کے وقت پر ادا کرتے ہیں ، اور پھر عصر کو بھی اس کے وقت پر قصر کرکے ادا کرتے ہیں ۔ پھر نماز مغرب اس کے وقت پر ادا کرے اور پھر نماز عشاء بھی اس کے وقت پر قصر کر کے ( دوگانہ ) ادا کرے ، اور یہ رات منی میں ہی گزارے اور جب نماز فجر ادا کر لے اور 9 ذوالحج کا سورج طلوع ھو جاۓ تو میدان عرفات کی طرف روانہ ھو جاۓ ۔ وہاں نماز ظہر و عصر قصر کر کے اور دونوں کو جمع کر کے نماز ظہر کے وقت میں ادا کرے ، اور پھر میدان عرفات میں ہی ٹھہرا رہے اور اللہ تعالی کا بکثرت ذکر کرتا رہے ، اللہ کے سامنے عاجزی و خاکساری اختیار کۓ رہے ۔ اس سے دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی مانگتا رہے اور اس عظیم موقع پر ( وقوف عرفات کے دوران ) اللہ سے الحاح و زاری اور گڑگڑا کر دعائیں مانگے اور اس سے امیدیں لگاۓ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے ارشاد کے مطابق :

" وقوف عرفہ ہی دراصل حج ہے " ۔ ( سنن اربعہ ، مسند احمد ، ابن حبان ، ابن خزیمہ ، دار قطنی ، بیہقی ، مستدرک حاکم ، طیالسی ، ) ۔

اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ہی ارشاد فرمایا ہے :

" بہترین دعاء یوم عرفہ میں کی گئی دعاء ہے اور وہ بہترین ذکر و دعاء جو میں نے اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام نے کی ہے وہ یہ ہے "

(( لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ، لہ الملک و لہ الحمد ، و ھو علی کل شیء قدیر )) ۔

اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں وہ اکیلا ہے ، اسکا کوئی شریک نہیں ، تمام بادشاہی اور ہر طرح کی تعریف اسی کے لۓ ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے " ۔ ( ترمذی ، مسند احمد ، بیہقی ، ان ابی شیبہ ، موطا امام مالک ، مصنف عبد الرزاق ، شرح السنۃ بغوی )

 

عرفات : میدان رحمت و مغفرت :

رحمت و  مغفرت کے میدان ، میدان عرفات میں دلوں کو نرم اور ان میں اللہ کا خوف و خشیت پیدا کی جاۓ ، آنکھیں آنسو بہائيں ، تو گناہ و کوتاہیاں کم کی جاتی ہیں ، درجات بلند کۓ جاتے ہیں اور اللہ تعالی فرشتوں سے کے سامنے حجاج پر فخر کرتا ہے اور انھیں کہتا ہے :

" دیکھو ! میرے بندوں کی طرف دیکھو ، یہ پراگندہ بال اور خاک آلود و خستہ حال دنیا کے ہر کونے اور دشوار گزار راستوں سے ھوتے ھوۓ میرے پاس آۓ ہیں ۔ میں تمھیں گواہ بنا کر کہتا ھوں کہ میں نے ان سب کو بخش دیا ہے " ۔ ( ابن حبان ، ابن خزیمہ ، بزار ، شرح السنہ بغوی )

یوم عرفہ کے روزہ کا ثواب :

جو شخص حج نہ کر رہا ھو تو اسے چاہیۓ کہ وہ یوم عرفہ کا روزہ رکھے ، اور اس بات کی امید رکھے کہ اللہ اس کے دو سالوں گزشتہ و آئندہ کے گناہ معاف کر دے گا ۔ جیسا کہ صحیح مسلم کی حدیث میں ارشاد نبوی مذکور ہے :

( صحیح مسلم ، ابوداود ، ترمذی ، ابن ماجہ ، ابن خزیمہ ، بیہقی ، مسنداحمد ) ۔

اور صحیحین میں ارشاد نبوی ہے :

" یوم عرفہ کے دن سے زیادہ لوگ کسی بھی دوسرے دن میں نار جہنم سے آزادی نہیں پاتے " ۔ ( صحیح بخاری و مسلم ، نسائی ، ابن ماجہ ، ابن خزیمہ ، مستدرک حاکم ) ۔

مزدلفہ میں شب گزاری :

جب 9 ذوالحج کا سورج غروب ھو جاۓ  تو میدان عرفات سے پورے سکون و وقار کے ساتھ مزدلفہ چلے جائیں اور وہاں پہنچ کر مغرب و عشاء کی نمازیں قصر کر کے اور نماز عشاء کے وقت میں دونوں کو جمع کر کے ادا کریں ۔ اور قصر صرف عشاء میں ہی ھو گی اور یہ رات مزدلفہ میں ہی بسر کریں اور وہیں نماز فجر ادا کریں  اور نماز فجر کے بعد بکثرت ذکر الہی و دعاء کریں ، یہاں تک کہ صبح کی سپیدی خوب پھیل جاۓ تب سورج طلوع ھونے سے پہلے ہی منی کی طرف روانہ ھو جائيں ۔ البتہ عورتوں بچوں اور دوسرے کمزور لوگوں ( بوڑھوں وغیرہ ) کے لۓ جائز ہے کہ وہ آدھی رات کے بعد مزدلفہ سے منی کی طرف روانہ ھو جائیں اور یہ وقت چاند کے غروب ھونے کے ساتھ ہی ھو جاتا  ہے ۔

10 ذوالحج ( یوم نحر ) کے اعمال :

حاجی جب منی پہنچ جاۓ تو جمرہء عقبہ ( کبری ) کو پے درپے سات کنکریاں  ایک کر کے مارے اور ہر کنکری مارتے وقت اللہ اکبر کہے ۔ اب اگر اس پر ( قران و تمتع کی وجہ سے ) قربانی واجب ہے تو قربانی کرے ، پھر سر منڈواۓ یا بال چھوٹے کرواۓ جبکہ سر منڈوانا ہی افضل ہے ۔ اس کے بعد وہ اگر ممکن ھو تو 10 ذوالحج ( یوم عید ) کو ہی بیت اللہ شریف کی طرف روانہ  ھو جاۓ ورنہ اگلے دن سہی اور وہاں جا کر وہ طواف افاضہ  ، ( طواف زیارہ ، طواف حج ) کر ے اور اگر حج قران یا افراد نہیں کر رہا تو صفا و مروہ کے مابین سعی بھی کرے اور وہ قران یا افراد کر رہا ہے اور وہ حج سے قبل طواف قدوم و و عمرہ کے ساتھ سعی کر چکا ہے تو اسے وہی سعی کافی ہے اور اگر کسی سے یوم نحر ( 10 ذوالحج ) کے اعمال میں سے  کوئی عمل مقدم و مؤخر ( آگے پیچھے ) ھو گیا تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔

ایام تشریق کی راتیں اور رمی جمرات :

طواف و سعی کے بعد دوبارہ منی کی طرف لوٹ جاۓ اور ایام تشریق ( 11 ، 12 ، 13 ذوالحج ) کی راتیں وہیں گزار دے اور ہر روز زوال آفتاب ( سورج کے سر سے ڈھلنے ) کے بعد تینوں جمرات پر رمی کرے ، اب اسے اجازت ہے ، چاہے تو  دو ہی دن میں جلدی کر کے لوٹ جاۓ اور اگر چاہے تو 13 ذوالحج کی رمی تک رک جاۓ اور یہ رکنا ہی افضل ہے ، اب اس کا حج مکمل ہے سواۓ اس کے مکہ مکرمہ سے روانگی سے قبل صرف طواف وداع کرنا باقی ہے ۔

دوسروں کے لۓ خلوص و محبت اور نرمی :

جو کچھ آپ کرتے ہیں اور جو کچھ آپ چھوڑتے ہیں ہر معاملہ میں اللہ کا تقوی اختیار کریں ، اپنے اعمال و

مقاصد میں اپنی نیتوں کو اللہ کے لۓ خالص کر لیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت و طریقہ کی پیروی کریں اور ہر اس قول و فعل سے بچیں جو حج کو داغدار کرنے والا یا اس کا ثواب کم کرنے والا ہے اور سکون و نرمی کو اختیار کۓ رہیں اور اپنے مسلمان بھائیوں سے شفقت و محبت اور رحم و کرم سے پیش آئیں خصوصا " اژدھام کے اوقات و مقامات پر مثلا طواف و رمیء جمرات کے وقت اور مسجد حرام کے دروازوں پر اور عبادت کی عظمت اور اس مقام کی جلالت شان کا شعور و احساس کریں ۔

چند دعائيں :

اے اللہ ! تو نے ہی ھمیں حج بیت اللہ کی نعمت سے نوازا ہے اور اپنی دوسری بڑی بڑی نعمتوں سے مالا مال کیا ہے ، تیرے یہ بندے تیری نداء پر لبیک کہتے ھوۓ آ گۓ ہیں اور تیری رحمتوں کے امیدوار ہیں ، اے اللہ ! ان کے لۓ ان کا حج آسان کر دے ، انکے گناہ معاف کر دے ، ان کے مناسک حج و عبادت کو قبول فرما ، اے اللہ ! تمام حجاج کرام اور عمرہ کرنے والوں کی حفاظت فرما اور انھیں اپنے مناسک پورنے کرنے کی توفیق سے نواز اور ان سے قبول بھی فرما اور انھیں ان کے ملکوں کی طرف صحیح و سالم اور غنیمتیں پانے والے بنا کر بھیج دے ۔ اے حی و قیوم اے صاحب جلال و اکرام !

اے اللہ ! اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرما ، شرک اور مشرکوں کو ذلیل کر ، دشمنان دین کو تباہ کر دے اور اس ملک اور تمام ممالک اسلامیہ کو امن و اطمینان کا گہوارہ بنا دے ۔

و صلی اللہ و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ و صحبہ اجمعین

سبحان ربك رب العزﺓ عما یصفون و سلام علی المرسلین

و الحمد للہ رب العالمین

 
 
  روابط ذات صلة

· زيادة حول makkah
· الأخبار بواسطة urd


أكثر مقال قراءة عن makkah:
آداب حج

 

  تقييم المقال

المعدل: 0
تصويتات: 0

الرجاء تقييم هذا المقال:

ممتاز
جيد جدا
جيد
عادي
رديئ


 

  خيارات


 صفحة للطباعة  صفحة للطباعة

 أرسل هذا المقال لصديق  أرسل هذا المقال لصديق

 

 
 
عفوا، التعليقات غير ممكنه لهذا المقال.