Welcome to ::::::ALHARAMAINONLINE.ORG::::::
 
 

 
  خطب: تمام ادیان و شرائع کی کامل تری شکل : دین اسلام اور شر
أرسلت في Wednesday, March 10 بواسطة urd
 
 
  makkah

 

 

 

تمام ادیان و شرائع کی کامل تری شکل :

 دین اسلام اور شریعت مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم

فضیلة الشیخ  / صالح بن محمد آل طالب : حفظہ اللہ

1/1/ 1425 ھ  27 / 2 / 2004 ء

حمد و ثناء کے بعد

اللہ کا تقوی اختیار کرو ، اس قدر جتنا کہ اس کا حق ہے اور اسلام کے مضبوط آہنی کنڈے کو تھامے رکھو اور یاد رکھو کہ یہ دنیا فانی ہے اور آخرت ہی ھمیشہ کا گھر ہے ۔ ارشاد الہی ہے :

" جس نے برائی کی اسے بدلہ بھی ویسا ہی ملے گا اور جو نیک کام کرے گا ، مرد ھو یا عورت اور وہ صاحب ایمان بھی ھو گا تو ایسے لوگ جنت میں داخل ھونگے وہاں انھیں بے شمار رزق ملے گا " ۔

 ( المؤمن : 40)

مقصد تخلیق انسان اور یہ کائنات :

 



اے مسلمانو ! اور اے بنی بشر ! زمانہ ماضی و عہد قدیم میں اور طویل زمانوں سے قبل جن کی طوالت کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور اس کائنات کی تخلیق سے بھی پہلے صرف اللہ ہی تھا ۔ اس کے ساتھ دوسرا کوئی نیں تھا ۔ وہ بلا ابتداء اول ہے  اور وہ بلاانتہاء آخر بھی ہے وہ ہر چیز پر ظاھر و غالب ہے اس سے اوپر کوئی چیز نہیں اور وہی باطن بھی ہے اور اس سے ماوراء کوئی چیز نہیں  وہ اپنی تعریفوں کے ساتھ پاک ہے ۔ اس نے کسی وقت یہ فصیلہ فرمایا کہ مخلوقات کو بناۓ ، جانوں کو تخلیق فرماۓ ، تب اس نے آسمانوں ، زمین اور ان کے مابین کی تمام چیزوں کو بنایا ۔ اس نے فرشتوں کو بنایا جو اس کے احکام و اوامر میں سے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جس چیز و کام کا انھیں حکم دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرتے ہیں ۔ اللہ نے جنوں کو پیدا فرمایا اور انھیں انسانوں کی نظروں سے اوجھل رکھا اور پھر اس نے  اپنے مکرم ہاتھوں سے ھمارے بابا حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق فرمائی اور ان سے نسل انسانی کا اجراء کیا ۔ اور جن و انس کا مقصد تخلیق بیان فرماتے ھوۓ فرمایا :

" میں نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لۓ پیدا کیا ہے ، مجھے ان سے رزق  نہیں چاہیۓ اور نہ ہی میں یہ چاہتا ھوں کہ وہ مجھے کھلائیں ۔ بیشک اللہ خود بہت ہی زیادہ رز‍ق دینے والا ، بہت ہی قوت کا مالک ( زور آور ) اور مضبوط ہے "۔ ( الزاریات : 56 ، 58)

اللہ سبحانہ و تعالی غنی و بے نیاز ہے  ۔     

امت واحد اور اختلافات :

حضرت آدم علیہ السلام سب سے پہلے انسان ہیں اور وہی سب سے پہلے نبی بھی ہیں ۔ اللہ نے انھیں صرف اللہ غالب و لائق ستائش کے لۓ خالص عبادت اور اس کے وحدانیت و یکتائی کا حکم فرمایا : ان کے لۓ شریعت مقرر فرمائی اور ان کی اولاد میں یکے بعد دیگرے انبیاء کرام کا سلسلہ شروع فرمایا تا کہ وہ انبیاء مخلوق کی قیادت و راہنمائی کریں ۔ انھیں حق کی راہ دکھلائیں جسے لوگوں کے لۓ خود اللہ تعالی نے پسند فرمایا ہے ، شروع میں تمام لوگ اسی اصل پر قائم تھے سب کے سب ہی اسلام و توحید پر تھے ۔ سارے کے سارے ہی راہ ھدایت پر تھے کیونکہ وہ فطرت سلیمہ ( اسلام ) پر رہتےھوۓ اپنے اپنے نبی کی اتباع وپیروی کیا کرتے تھے ۔ وہ سب ایک ہی امت تھے ، ایک دین کو مانتے تھے ، صرف ایک ہی معبودحقیقی کی عبادت کیا کرتے تھے ،یہاں تک کہ شیطان نے انھیں بہکا دیا اور وہ سیدھے دین سے پھر گۓ اور صراط مستقیم سے منحرف ھو گۓ اور یہ اللہ کے نبی حضرت نوح علیہ السلام کی بعثت سے پہلے ہی رونما ھو گیا ۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے :

" حضرت آدم و نوح علیھما السلام کے مابین دس قرنوں ( نسلوں یا ھزار سال ) کا عھد و زمانہ ہے ۔

 اس دوران کے تمام لوگ مسلمان تھے اور پھر ان کے مابین دینی اختلاف واقع ھو گیا " ۔

 جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

" لوگ ایک ہی امت تھے اور پھر وہ باھم اختلاف میں پڑ گۓ " ۔ ( یونس : 19)

سبب اختلافات شرک :

اس اختلاف کے وقوعہ کا سبب ان کا اپنے انبیاء کی اتباع و پیروی کو ترک کرنا اور آسمان تک پہنچی ھوئی رسی سے تمسک و تعلق قائم نہ رکھنا تھا ۔ انھوں نے اللہ کے سوا اس کے شریک بنا لۓ اور انھیں معبود ٹھہرا لیا ۔ قرآن کریم میں ان کے چند معبودوں کا ذکر آیا ہے  جو یہ ہیں :

" ود " سواع " یغوث "  یعوق " اور نسر ۔ ۔ ۔ " ( نوح : 23)

یہ دراصل ان کی قوم کے نیک و صالح افراد کے نام ہیں جن کے مر جانے کے بعد ان کی قوم نے ان کی صورتیں ( بت ) بنا کر عبادت میں ھمت و نشاط حاصل کرنے کے لۓ ان کا ذکر شروع کر دیا ۔ پھر ان کے بعد میں آنے والے لوگوں نے ان کی تعظیم شروع کر دی یہاں تک کہ ان کی عبادت شروع ھو گئی جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے  یہ ثابت ہے ۔ تب اللہ تعالی نے انکی طرف اپنے پہلے رسول حضرت نوح علیہ السلام کو مبعوث فرمایا جنکے بارے میں ارشاد الہی ہے :
" وہ پچاس کم ایک ھزار سال ان کے مابین رہے " ۔ ( العنکبوت : 14) ۔

وہ انھیں توحید کی دعوت دیتے رہے اور ایک اللہ کی خالص عبادت کی طرف بلاتے رہے مگر حسب ارشاد الہی ہے :

" ان کے ساتھ بہت ہی تھوڑے لوگ ایمان لاۓ " ۔ ( ھود : 40)

انھیں اور ان کے اہل ایمان ساتھیوں کو اللہ تعالی نے نجات دی اور باقی تمام لوگوں کو طوفان میں غرق کر دیا ، اور اس کے بعد اللہ تعالی نے اپنے رسول مسلسل بھیجے لیکن : " جب کسی امت کے پاس اس کا رسول آیا ، انھوں نے اسے جھٹلایا " ۔ ( المؤمنون : 44) ۔

انہی رسولوں میں سے حضرت ھود و صالح علیھا السلام بھی ہیں ۔

 

 انتشار شرک اور ضرب خلیل :

اس کے بعد بتوں کے شرک کے علاوہ دنیا ستاروں کی عبادت کے شرک سے بھر گئی ۔ شرک کی یہ قسم روۓ زمین پر عام ھو گئی حتی کہ روۓ زمین پر حضرت ابراھیم خلیل علیہ السلام  اور ان کی  زوجہ محترمہ حضرت سارہ علیھا السلام اور ان کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کے سوا کوئی مومن و موحد نہ تھا تب اللہ تعالی نے موحدین کے امام حضرت ابراھیم خلیل علیہ السلام کو مبعوث فرمایا جو کہ ابو الانبیاء ، ملت خالصہ و موحدہ  کی اساس و بنیاد اور باقی رہنے والے کلمہ تھے ، ان کے ہاتھوں اللہ تعالی نے ان شرور و شرک کا خاتمہ  کروایا ، بتوں کو تڑوایا اور طاغی و سرکش لوگوں کو خود اللہ تعالی نے ھلاک کیا اور حضرت ابراھیم علیہ السلام کو نجات عطا فرمائی اور پھر انھیں دو انتہائی بابرکت بیٹے اور بڑی تکریم والے نبی حضرت اسماعیل و اسحاق علیھما السلام عطا فرماۓ ، حضرت اسماعیل علیہ السلام بنی جرھم ، عمالقہ حجاز اور یمن والوں کے لۓ تھے اور حضرت اسحاق علیہ السلام کو اللہ تعالی نے شام اور اس کے مضافات و متعلقات کی طرف مبعوث فرمایا اور پھر اللہ تعالی نے حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل سے حضرت یعقوب علیہ السلام پیدا فرما کر نبی بنایا اور وہی اسرائیل ہیں جن کی نسل سے انبیاء و ملوک کا سلسلہ شروع ھوا ۔ حضرت یوسف علیہ السلام آۓ ، پھر حضرت موسی و ہارون ، یونس ، داود ، سلیمان ، یحی ، زکریا اور عیسی علیھم السلام آۓ ، حضرت موسی علیہ السلام رسالت و کتاب کے ساتھ مبعوث ھوۓ ۔ ان کی کتاب تورات اور ان کی شریعت یہودیت تھی ، اور پھر حضرت عیسی علیہ السلام آۓ جو کہ انبیاء بنی اسرائیل  میں سے آخری نبی تھے ۔ آپ کی کتاب انجیل اور شریعت نصرانیت تھی ۔

بعثت مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم کی بشارتیں :

تمام  انبیاء بشر تھے ، آتے گۓ اور فوت ھوتے گۓ اور ان کے بعد آنے والے اہل علم بھی بھولتے گۓ ، خطائیں کرتے رہے بلکہ ان میں سے کئی لوگ تحریف اور تغیر و تبدل کے مرتکب بھی ھوۓ اور اللہ نے ان تمام انبیاء کی رسالتوں کی بقاء کا ذمہ نہ لیا اور اپنی  کسی حکمت کے تحت ہی ان کی کتابوں کے تحفظ کی ذمہ داری بھی نہ اٹھائی ۔ اور اللہ تعالی نے تمام انبیاء کرام کی طرف یہ وحی کی کہ اپنی اپنی قوم کو نبئ کریم ، رسول خاتم صلی اللہ علیہ و سلم کی آمد کی بشارت دیتے رہیں ، جن کی رسالت و شریعت دائمی  (قیامت تک کے لۓ ) ھوئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی کتاب بھی ہر طرح کی تحریف و تبدیل سے محفوظ رہے گی وہ نبی اس امانت کا بار اٹھائیں گے جسے آپ سے پہلے انبیاء و رسل نے اٹھایا ۔ جنھوں نے اس نبی کی رکاب کو تھامے رکھا اور ان کے نقش قدم پر چلتے گۓ وہ نجات پا جائيں گے اور جس نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی تکذیب و انکار کیا اس نے گویا پہلے تمام انبیاء و رسل کی بھی تکذیب کی اور انکار کر گۓ ۔ اور وہ اللہ کے رسول قریشی و ھاشمی حضرت محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہیں  نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اللہ تعالی نے سابقہ تمام شرائع سماویہ  سے اکمل ترین شریعت عطا فرمائی جو کہ تمام انسانوں کے لۓ عام و شامل ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم ملت ابراھیمی ( توحید و حنیفیت ) کی طرف دعوت دیا کرتے تھے ، اور اپنے سے پہلے انبیاء کے قبل از تحریف دین صحیح  کی طرف بلاتے تھے اور وہ دین ہی صرف ایک اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کرنا اور تمام عبادات کو ضرور اللہ تعالی ہی کے لۓ خالص کرنا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے زمین کو عبادت اوثان اور شرک کی تمام آلائیشوں سے پاک کر دیا جبکہ آپ سے قبل روۓ زمین کے اہل کتاب یہود و نصاری  کی غالبیت و اکثریت شرک میں لت پت ھو چکی تھی ۔

نوید و بشارت :

محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم حضرت عیسی علیہ السلام کی نوید اور پہلے انبیاء کی بشارت تھے ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر جمیل اٹھارہ بشارتوں میں آیا ہے ان میں سے گیارہ بشارتیں تو عھد قدیم ( تورات ) میں ہیں اور بقیہ سات بشارتیں عھد جدید ( انجیل ) میں آئی ہیں  ۔ اہل کتاب کے علماء سوء نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں آمدہ بشارتوں کو اپنی کتابوں میں سے حذف کر دیا ہے یا ان کی تحریف و تاویل کر دی ہے اور ان کی تمام تر تحریفوں اور تاویلوں کے باوجود بھی وہ صرف اور صرف ھمارے ہی نبئ امت مسلمہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر صادق و فٹ آتی ہیں ۔ اللہ تعالی نے بعض یہودی احبار و علماء اور نصرانی رہبان و اہل علم کو راہ حق کی ھدایت دی ۔ انھوں نے حق کی تلاش میں جد و جہد کی اور وہ حقیقت کو پا گۓ ۔

تمام انبیاء کا مشترکہ دین و دعوت :

مسلمانو ! حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر خاتم الانبیاء و المرسلین حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم تک تمام انبیاء و رسل کی سیرت پر نظر ڈالنے والا شخص بآسانی اس حقیقت کو پا لیتا ہے کہ تمام انبیاء و رسل علیھم السلام کا دین ایک اور ان کا راستہ و صراط مستقیم بھی ایک ہی تھا ۔

 ارشاد الہی ہے :

" بیشک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہی ہے " ( آل عمران : 19)

تمام انبیاء دین جامع کے ساتھ مبعوث کۓ گۓ تھے اور وہ دین جامع یہ ہے کہ اللہ وحدہ لا شریک کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جاۓ اور لوگوں کو اس راہ کیطرف لگایا جاۓ جو انھيں اسی تک پہنچا دے ، لوگوں کو مرنے کے بعد دوبارہ اٹھاۓ جانے ، حساب و کتاب ھونے اور جزاء و سزا کے بارے میں صحیح صحیح معلومات مہیا کی جائيں ۔ انھیں حیات بعد الممات کا تعارف کروایا جاۓ ۔ اور یہ وہ عظیم اکائی ہے جو تمام رسولوں اور ان کی رسالتوں کے مابین مشترک تھی ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے اس ارشاد سے بھی یہی مقصود ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے :

" ھم انبیاء  کی جماعت کے افراد ایک باپ کی اولاد سے بھائی بھائی ہیں ، ان کی مائیں الگ الگ ہیں لیکن دین سب کا ایک ہی ہے " ۔ ( متفق علیہ )

اصل عام یہ ہے کہ تمام انبیاء کا دین ایک ہی ہے البتہ ان کی شریعتیں الگ الگ ہیں اور یہ سب اللہ ہی کی طرف سے ہیں ۔ کوئی بھی نبی ایسا ہرگز نہیں گزرا جس نے توحید کی دعوت نہ دی ھو ۔ اللہ تعالی نے اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم سے مخاطب ھو کر فرمایا ہے :

" ھم نے آپ سے پہلے جو بھی رسول بھیجا ہے اسے ہی یہ وحی بھی کی ہے کہ میرے سوا کوئی

لائق عبادت نہیں لھذا صرف میری ہی عبادت کرو "۔  ( الانبیاء : 25)

اور سورﺓ النحل میں ارشاد فرمایا ہے :

" ھم نے ہر امت و قوم میں ایک رسول بھیجا ( جس کے ذریعے انھیں حکم دیا ) کہ تم سب اللہ ہی کی عبادت کرو اور طاغوت ( اللہ کے سوا پوجی جانے والی چیزوں ) سے اجتناب کرو " ۔ ( النحل 36) ۔

اللہ نے کسی بھی نبی کے لۓ یہ ہرگز روا نہیں کیا کہ وہ کبھی بھی کسی غیر اللہ کی عبادت کرے بلکہ اللہ نے تو خود انبیاء کو الہ و معبود بنا لینے کو بھی کفر قرار دیا ہے ۔ چنانچہ ارشاد گرامی ہے :

" کسی بشر کو یہ لائق نہیں کہ جب اللہ اسے کتاب و حکمت اور نبوت سے سرفراز کر دے تو پھر وہ لوگوں سے کہنے لگے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے ( عبادت کرنے والے ) بن جاؤ بلکہ ( اس کو یہ کہنا سزاوار ہے کہ ) تم ربانی ( رب والے ) ھو جاؤ کیونکہ تم کتاب ( الہی ) پڑھتے پڑھاتے رہتے ھو ، اور اس کو یہ بھی نہیں کہنا چاہیۓ کہ تم فرشتوں اور نبیوں کو رب بنا لو ، بھلا جب تم مسلمان ھو چکے ھو تو اسے کہاں زیبا ہے کہ وہ تمھیں کافر ھونے کو کہے " ۔ ( آل عمران : 79 ، 80)

جامع شریعت و دین :

اللہ نے ھمارے لۓ بھی وہی چیزیں بطور شریعت مقرر فرمائی ہیں جو پہلی امتوں دور سابقہ رسولوں کے لۓ شریعت بنائی تھیں اور وہ شرائع اسلامیہ ہی ہیں جو کہ اللہ کا دین ہیں ۔ ارشاد ربانی ہے :

" اس نے تمھارے لۓ دین کا وہی راستہ مقرر فرمایا  جسے اختیار کرنے کا ( حضرت ) نوح ( علیہ السلام ) کو حکم فرمایا تھا اور جس کی ( اے محمد ! صلی اللہ علیہ و سلم ) ھم نے آپ کی طرف وحی بھیجی ہے اور جس کا ( حضرت ) ابراھیم و موسی و عیسی  ( علیہم السلام ) کو حکم دیا تھا ۔ ( وہ یہ ) کہ دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا " ۔ ( الشوری : 13) ۔

یہی وجہ ہے کہ ھم قرآن کریم میں دیکھتے ہیں کہ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنی موت سے قبل اپنی اولاد ( بیٹوں ) کو اکٹھا کرتے ہیں تاکہ سفر آخرت سے پہلے اپنے  بیٹوں کی ڈگر ( روش ) کے بارے میں اطمینان کر لیں ۔ چنانچہ ارشاد الہی ہے :

" بھلا جس وقت ( حضرت ) یعقوب ( علیہ السلام ) وفات پانے لگے تو تم لوگ اس وقت موجود تھے ؟ جب انھوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا کہ میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے ؟ تو انھوں نے عرض کیا کہ آپ کے معبود حقیقی اور آپ کے باپ دادا (حضرت ) ابراھیم و اسماعیل و اسحاق کے معبود برحق کی ہی عبادت کرینگے جو معبود یکتا ہے اور ھم صرف اسی کے فرمانبردار ہیں " ۔ ( البقرہ : 133)

اللہ تعالی نے یہود و نصاری پر نکیر کی ہے کہ انھوں نے  انپے انبیاء کے بارے میں غلو و مبالغہ آمیزی سے کام لیا اور غیر اللہ کی عبادت  شروع کر دی اور ان کے اس فعل کو اللہ تعالی نے شرک و کفر کا نام دیا ہے ۔ چنانچہ ارشاد  باری  تعالی ہے :

" یہودی کہتے ہیں کہ ( حضرت ) عزیر ( علیہ السلام ) اللہ کے بیٹے ہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ ( حضرت ) مسیح ( علیہ السلام ) اللہ کے بیٹے ہیں ۔ یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں ۔ پہلے کافر بھی اسی طرح کی باتیں کہا کرتے تھے یہ بھی انھیں کی ریس کرنے لگے ہیں  ، اللہ انھیں ھلاک کرے یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں ؟ انھوں نے  اپنے احبار و رھبان ( علماء و مشائخ ) اور مسیح ابن مریم کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا حالانکہ انھیں تو یہ حکم دیا گیا تھا کہ ایک معبود ( اللہ ) کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں   ، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور وہ ان لوگوں کے شریک مقرر کرنے سے پاک ہے " ۔

 ( التوبہ : 30 ، 31)

اور ایک دوسری جگہ ارشاد الہی ہے :

" وہ لوگ بلاشبہ کافر ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ مریم کے بیٹے ( حضرت ) عیسی مسیح اللہ ہیں حالانکہ خود مسیح یہود سے کہا کرتے کہ اے بنی اسرائیل ! صرف اس اللہ ہی کی عبادت کیا کرو جو کہ میرا اور تمھارا رب ہے ، ( اور جان رکھو کہ ) جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرے گا ، اللہ اس پر جنت کو حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانا  ( جہنم کی ) آگ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں " ۔ ( المائدہ 72) ۔

اور ایک تیسرے مقام پر اللہ تعالی نے فرمایا ہے :

" اے اہل کتاب ! اپنے دین کے معاملے میں حد سے نہ بڑھو اور اللہ کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو  

مسیح ( یعنی ) مریم کے بیٹے ( حضرت ) عیسی ( علیہ السلام نہ اللہ تھے نہ اللہ کےبیٹے بلکہ ) اللہ کے رسول اور اس کا کلمہ ( بشارت ) تھے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح تھے ،  اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور (یہ ) نہ کہو ( کہ اللہ ) تین ( ہیں اس اعتقاد سے ) باز آ جاؤ یہی تمھارے لۓ بہتر ہے ، اللہ ہی معبود واحد ہے اور وہ اس سے پاک ہے کہ اس کی اولاد ھو " ۔ ( النساء : 171 )

انہی قدیم بنیادوں اور اسی عقیدہ پر جو کہ تمام انبیاء کا دین رہا ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی شریعت کو استوار و قائم کیا گیا ہے جو آخری شریعت اور دائمی نبوت رسالت ہے اور اس میں تمام سابقہ انبیاء اور تمام کتب سماویہ پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے ، شریعت اسلامیہ سابقہ تمام شریعتوں کے کمالات کی جامع اور ان تمام شریعتوں کو منسوخ کرنے والی ہے ۔

آخر کب تک ؟

کیا اب بھی اہل کتاب اور خصوصا ان کے علماء کے لۓ  وہ وقت نہیں آيا کہ وہ فہم و بصیرت سے کام لیں تاکہ انھیں پتہ چلے کہ یہ اسلام دراصل سابقہ تمام شریعتوں ہی کا مجموعہ اور ان کی اکمل ترین شکل ہے اور یہی وہ دین ہے جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ سے لیکر قیامت کے لۓ اللہ تعالی نے پسند فرمایا ہے ۔ اللہ اسلام کے سوا کسی دوسرے دین کو اور ملت اسلامیہ کے سوا کسی ملت کو ہرگز قبول نہیں کرے گا ۔

چنانچہ اس سلسلہ میں ارشاد رب کائنات ہے :

" جو اسلام کے سوا کسی اور ( نظریۓ ) کو دین ماننا چاہے گا اس سے وہ ہرگز قبول نہیں کیا جاۓ گا اور وہ شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ھو گا " ۔ (آل عمران : 85)

لمحۂ فکریہ :

تمھیں اس نقطہ پر غور و فکر کرنا چاہیۓ کہ دنیا میں اسلام کے سوا دوسرا وہ کونسا دین ہے جس نے

تمام آسمانی کتابوں پر ایمان لانے اور پہلے تمام انبیاء و رسل کی تصدیق کرنے کو اپنا ایک رکن قرار دیا ھو بلکہ جس دین کے نبی ۔۔ صلی اللہ علیہ و سلم ۔۔ نے یہ کہا ھو کہ وہ اور ان کے پیروکار پہلے انبیاء کے زیادہ حقدار و اولی ہیں جن کی پیروی کا یہ لوگ دم بھرتے ہیں ۔ چنانچہ ھمارے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے یہود مدینہ سے مخاطب ھو کر فرمایا : 

" ھم تم سے بھی زیادہ ( حضرت ) موسی  ( علیہ السلام ) پر حق رکھتے ہیں "  ۔

اس ارشاد میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم یہ بیان کر رہے ہیں کہ اسلام ہی وہ دین ہے جو سابقہ تمام اقوام و امم کے لوگوں کے لۓ  اکلوتی اور آخری پناہ گاہ و آماجگاہ ہے اور یہی وہ واحد راستہ ہے جو کہ اللہ تک پہنچا سکتا ہے ۔

 تاریخ کی شہادت :

کیا آپ اس بات پر توجہ مبذول نہیں کرتے کہ پندرہ صدیوں کے دوران تاریخ نے آج تک اپنے اوراق میں اس بات کو جگہ نہیں دی کہ کسی ایک بھی مسلمان عالم دین نے عیسائیت یا یہودیت کو قبول کیا ھو جبکہ تاریخ کے اوراق اس بات پر شاھد ہیں اور اس میں سنہری حروف و نورانی کلمات سے لکھا ہے یہودیوں کے احبار و علماء اور عیسائیوں کے رہبان و اہل علم کی جماعتوں کی جماعتیں شریعت اسلامیہ کو برضاء و رغبت قبول کر چکی ہیں ۔ اور انھوں نے اپنا رشتہ اللہ کے اس آخری دین سے جوڑ لیا ہے جسے اس نے تمام بنی نوع بشر کے لۓ پسند فرما لیا ہے اور اہل کتاب میں سے اسلام لانے والے ان احبار و رھبان کو اللہ تعالی نے دوہرا اجر و ثواب عطا فرمایا ۔

اسلام قبول کر لیں :

اسی بات کے پیش نظر میں اس منبع رسالت و نبوت ، اس مہبط وحی اور اس کعبہ و بیت اللہ کے منبر سے ، جس بیت اللہ کو حضرت ابراھیم خلیل علیہ السلام نے بنایا تھا اور حضرت عیسی و موسی علیھما السلام نے جس کا حج کیا تھا اسی گھر کے منبر سے تمام غیر مسلم لوگوں کو اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ان مبارک الفاظ میں دعوت دیتا ھوں جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے

فرمایا  تھا :

" اسلام میں داخل ھو جاؤ ، امن و سلامتی پا لو گے ، اسلام لے آؤ ، سلامت رھو گے ، اسلام قبول کر لو اللہ تمھیں دو مربتہ اجر عطا فرماۓ گا اور اگر تم حلقہ بگوش اسلام نہ ھوۓ تو تمھیں اپنے اسلام قبول نہ کرنے کا گناہ بھی ھو گا اور جو جہالت کی بناء پر تمھاری دیکھا دیکھی و پیروی میں اسلام قبول نہ کریں گے ان کا گناہ بھی تمھارے سر آۓ گا "۔ ( حدیث رسول صلی اللہ علیہ و سلم )

ھم آپ کو قبول حق کی دعوت دیتے ہیں اور اس بات کی دعوت دیتے ہیں کہ صدق دل سے اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کریں تو آپ کو پتہ چل جاۓ گا کہ وہ صحیح اسلام جو رسول ھدایت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم لے کر آۓ تھے اور جو حقیقی اسلام ہے وہ تمام بدعات و خرافات سے بری ہے ، بشری کوتاہیوں اور مخالفتوں سے منزہ و پاک ہے اور ان خطاؤں سے بھی قطعا بری الذمہ ہے جو اس کے بعض ماننے والوں سے سرزد ھوئی یا ھوتی آ رہی ہیں ۔ ارشاد الہی ہے :

" ( اے نبی ! ) کہہ دیں کہ اے اہل کتاب ! جو بات ھمارے اور تمھارے مابین یکساں ( مسلم ) ہے اس کی طرف آ جاؤ اور وہ بات  یہ ہے کہ اللہ کے سوا ھم کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ھم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا اپنا کارساز نہ سمجھے ، اگر یہ لوگ ( اس بات کو ) نہ مانیں تو ( ان سے ) کہ دیں کہ تم گواہ رھو کہ ھم ( اللہ کے ) فرمانبردار ہیں " ۔ ( آل عمران : 64)

دین کے نام پر ظلم و بربریت :

آج بنی نوع بشر انتہائی شقاوت و بدبختی میں مبتلا ہے اور یہ سب مفاھیم کو خلط ملط کرنے کے اس دور میں صرف اس وجہ سے ہے کہ بعض سیاست دانوں نے مختلف ادیان میں سے ایک دین کو کڈنیپ کر کے اپنے گھر کی باندی بنا رکھا ہے اور اب اسے دوسری اقوام پر ظلم و ستم ڈھانے کے لۓ آلۂ کار بنایا ھوا ہے یا پھر اسے دوسرے ادیان والوں پر تسلط کا ذریعہ بنا لیا ھوا ہے ، جیسا کہ عالمی صہیونی طاقتوں نے یہودیت کے ساتھ کیا ، یا پھر جس طرح علمانی و بے دین حکومتیں مختلف اقوام پر ظلم و بربریت کا بازار گرم کۓ ھوۓ ہیں ۔ اور کئی ملکوں پر قبضے کر رہی ہیں اور یہ سب کچھ دین اور دینداری کےنام سے کیا جا رہا ہے اور وہ اپنے بیانات میں اس کی نفی کرتے ہیں مگر کسی نہ کسی موقع پر ان کی زبانیں لڑکھڑاتی ہیں اور ان کے اندر کا لاوا پھر ان کے منہ سے نکل ہی جاتا ہے اور اس سلسلہ میں ان  کے کئی صریح و واضح بیان سامنے بھی آ چکے ہیں ۔

علماء ادیان سے مطالبہ :

ان ادیان کے اہل علم سے ھمارا پرزور مطالبہ ہے کہ وہ اپنی حکومتوں کے ان ظالمانہ اقدامات کا واضح رد کریں اور کھلے طور پر انھیں بتائیں کہ ان کے یہ اقدامات خود ان کا دین جائز قرار نہیں دیتا ۔ اور جو کچو وہ دین کے نام سے کر رہے ہیں ان کا دین انھیں اس کی دعوت ہرگز نہین دیتا تاکہ وہ لوگ جو اس دین کو ماننے والے ہیں اور انھیں ان ظلم و ستم کی گرم بازاریوں مین محض استعمال کیا جا رہا ہے اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں اوراللہ کا قرب حاصل کرنے میں کوشاں ہیں ، انھیں پتہ چل سکے کہ وہ سیاست دانوں کے ہاتھوں میں محض ایک کھلونا بنے ھوۓ ہیں اور وہ ان کی خواہشات کی تکمیل کے لۓ خدم و حشم کا کردار ادا کر رہے ہیں اس سے بڑھ کر ان کوئی وقعت نہیں ہے اور نہ اس سے زیادہ ان کے کام کی کوئی قیمت ہے ۔ اور وہ جو ظلم و ستم ڈھا رہے ہیں اسے نہ کوئی دین برقرار رکھتا ہے اور نہ ہی کوئی اخلاقی نظام اسے روا قرار دے سکتا ہے ۔ ان ادیان کے علماء کا خاموشی اختیار کرنا یا شرماتے ھوۓ کچھ نہ کہنا اس بات کو شیہ دے رہا ہے جسے ان لوگوں نے روایت کیا ہے ۔ تھذیبوں کی آویزش یا تھذیبوں کے ٹکراؤ کا نام دے دیا ہے ، فلسطین میں مسلمانوں کی غصب کردہ زمین پر جو عنصری دیوار کھڑی کی جا رہی ہے وہ اسی کا ایک حصہ ہے ۔

عقیدہ ایمان سے تعلق میں گہرائی :

مسلمانو ! ایک آخری بات جو آج آپ کے گوش گزار کرنا ہے وہ یہ ہے کہ تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اپنے پر یقین میں مزید بڑھیں ، امت مسلمہ پر واجب ہے کہ وہ اس بات کا بھر پور اعتقاد رکھے کہ وہ حق پر ہیں اور دین حق کو ماننے والے ہیں جو کہ اسلام ہے اور یہ تمام ادیان عالم میں سے آخری دین ہے اور قرآن کریم وہ آخری آسمانی کتاب ہے اور پہلی تمام کتب سماویہ سے بالا ہے اور دین اسلام کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہیں جو کہ تمام انبیاء و رسل کے خاتم و آخری نبی ہیں اور آپ کی لائی ھوئی شریعت پہلی تمام شریعتوں کی ناسخ ہے اور اللہ تعالی اسلام کے سوا کسی دوسرے دین کو قبول کرنے والا نہیں ہے اور ان امور میں سے کسی بھی چیز سے ذرہ برابر دست برداری ہرگز روا نہیں ہے چاہے جان ہی کیوں نہ چلی جاۓ ۔

بعض شکست خوردہ ذھن :

یہ بات ھم ایسے وقت میں کہہ رہے ہیں جبکہ شکست خوردہ ذھنوں کے مالک پسپائی اختیار کرنے والے لوگ منسوخ و محرف قدیم شریعتوں اور دین اسلام کو باھم خلط ملط کرنے کی دعوت دے رہے ہیں اور سبز باغ دکھلاۓ جا رہے ہیں کہ یہ تقریب و اتحاد ادیان کی ایک صورت ہے ۔

عجیب سوچ :

اسی طرح آج وہ وقت بھی ہے جبکہ بعض لوگوں کا ایمان کمزور ھو چکا ہے اور وہ سمجھنے لگے ہیں کہ ھو سکتا ہے تمام ادیان ہی صحیح و صواب ھوں اور ان میں سے بعض کی زبانوں سے یہ زھریلے کلمات نکل بھی گۓ ہیں اور بعض کی تجاویز و حرکات سے اسی ذھن کا اندازہ لگ رہا ہے ، یوں لگتا ہے کہ انھوں نے اللہ تعالی کا وہ  ارشاد سنا ہی نہیں جس میں اس نے فرمایا ہے :

" جس نے اسلام کے سوا کوئی دین چاہا ( اختیار کیا ) اس سے وہ ہرگز قبول نہیں کیا جاۓ گا اور آخرت میں وہ خسارہ و نقصان پانے والوں میں سے ھو گا " ۔ ( آل عمران : 85)

وہ لوگ ان آيات قرآنیہ سے کہاں جائيں گے ؟ وہ سورﺓ الفاتحۃ ، سورﺓ البقرہ اور آل عمران سے کہاں بھاگیں گے ؟ اور سورﺓ النساء اور سورﺓ المائدﺓ کو کیا منہ دکھلائیں گے ؟

تجدید دین :

اور کچھ لوگ محض تجدید دین کی طرف دعوت دیں تو  حق یہ ہے کہ ھم واقعی اس بات کے حاجتمند

 ہیں کہ ھم نۓ سرے سے دین کی جڑیں مضبوط کریں اور یہ جڑھیں کیسے  مضبوط ھونگی اس کا طریقہ صرف وہی ہے جس کا ذکر احادیث میں آیا ہے کہ تجدید شریعت کی ذمہ داری ادا کی جاۓ اور دین اسلام کے وہ گوشے جو مسلمانوں کی نظروں سے اوجھل ھو رہے ہیں انھیں از سر نو نمایاں کیا جاۓ اور وہ سنتیں جو متروک ھو رہی ہیں انھیں از سر نو زندہ و معمول بہ کروایا جاۓ ۔

 اے اللہ ! ھمیں حق کو سمجھنے اور اسے اپنانے کی توفیق عطا فرما ۔ اور ھمیں باطل کو جاننے اور اس سے بچنے کی توفیق دے ۔

یوم عاشوراء کا روزہ : شکر الہی

اللہ آپ پر رحم فرماۓ !  یہ بات بھی آپ کے علم میں رہنی چاہیۓ کہ اللہ کے اس ماہ محرم کی دس تاریخ ( یوم عاشوراء ) کا روزہ سابقہ پورے ایک سال کے گناھوں کو مٹا کر رکھ دیتا ہے لھذا 10 محرم کا روزہ ضرور رکھیں اور اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھیں یہی آپ کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس دن کا روزہ رکھا جو اس بات کے شکرانے کے طور پر تھا کہ اس دن اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام اور ان کی قوم کو نجات دلائی تھی اور فرعون کو اس کے لشکروں سمیت ( دریاۓ نیل میں ) غرق کیا تھا ۔

یہ ماتم و نوحہ خوانی :

یہ بھی کس قدر عجیب اتفاق ہے کہ اسلام سے نسبت بتانے والے بعض لوگوں نے اس باسعادت دن کو دائمی ماتم و نوحہ خوانی کا دن بنا کر رکھ دیا ہے اور وہ اس سے کسی صورت میں بھی ہٹنے کو تیار نہیں جو دین سے کھلی جہالت کا نتیجہ اور عقل سلیم سے بے بہرہ و گمراہ لوگوں کی اتباع و پیروی کا ثمرہ ہے ، اے اس روش ماتم و نوحہ خوانی پر چلنے والو ! اللہ کی طرف اپنی ڈگر کو سیدھا اور اپنا قبلہ درست کر لو اور جنت کی بشارتیں دینے اور جہنم سے ڈرانے والے بشیر و نذیر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت و طریقہ کی پیروی کرو ۔

سبحان ربك رب العزﺓ عما یصفون و سلام علی المرسلین و الحمد للہ رب العالمین

 
 
  روابط ذات صلة

· زيادة حول makkah
· الأخبار بواسطة urd


أكثر مقال قراءة عن makkah:
آداب حج

 

  تقييم المقال

المعدل: 0
تصويتات: 0

الرجاء تقييم هذا المقال:

ممتاز
جيد جدا
جيد
عادي
رديئ


 

  خيارات


 صفحة للطباعة  صفحة للطباعة

 أرسل هذا المقال لصديق  أرسل هذا المقال لصديق

 

 
 
عفوا، التعليقات غير ممكنه لهذا المقال.